14 ستمبر 2013 - 19:30
اوباما: شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاہدے کا خیر مقدم

امریکی صدر براک اوباما نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں پر روسی اور امریکی وزرا‎ء خارجہ کے اتفاق کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

ابنا: تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اس معاہدے پر عمل نہ ہونے کی صورت میں شام کو پھر سے حملے کی دھمکی دی گئی ہے۔واضح ہو کہ امریکہ اور روس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاوں سے معتلق ماسکو کی تجویز پر اتفاق ہو گیا ہے جس کے تحت سنہ 2014 کے وسط تک یہ ہتھیار شام سے منتقل یا پھر تلف کر دیے جائیں گے۔یہ ایسی صورت میں ہے کہ جب 9 ستمبر کو ہی شام نے روس کی اس تجویز کا خیر مقدم کیا تھا اور اپنے کیمیایی ہتھیاروں سے متعلق دستاویزات اقوام متحدہ کو سونپ دیے تھے، تاہم شام نے اس تجویز پر عمل در آمد کو واشنگٹن کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیاں بند کرنے سے کیا تھا۔اوباما نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور روس کا معاہدہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دیے جانے کے حوالے سے اہم اور ٹھوس قدم ہے۔یاد رہے کہ سنیچر کو امریکہ اور روس کے وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ سمجھوتے کے مطابق شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے دستبردار ہونے سے متعلق دیے گئے وقت کی پابندی کرنا ہو گی۔روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ طے شدہ سمجھوتے میں اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ اگر شام اس ٹائم فریم کی پابندی نہیں کرتا تو اس کے خلاف ممکنہ طور پر طاقت کا استعمال ہوگا، لیکن کسی قسم کی خلاف ورزی کا جائزہ سلامتی کونسل میں لیا جائے گا۔حکام کے مطابق روس کے شدید اعتراضات کے بعد اب امریکہ شام سے متعلق قرارداد میں فوجی طاقت کے استعمال کے اصرار سے بھی پیچھے ہٹ گیا ہے۔اس کے علاوہ بات چیت میں شام میں ڈھائی سال سے جاری بحران کے خاتمے کے لیے امن بات چیت شروع کرنے پر بھی بات کی گئی ہے۔......./169